اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،تھائی لینڈ کی سیام ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو دی گئی حالیہ وارننگز محض بیانات نہیں بلکہ حقیقی اور عملی” نوعیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے ایک تھائی میڈیا چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پیغامات بالکل واضح ہیں اور یہ امریکی بحریہ کو خلیج فارس سے نکلنے کی براہ راست وارننگ سمجھے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات اور اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ صرف زبانی دھمکی نہیں بلکہ اگر نظرانداز کیا گیا تو عملی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ امریکہ ایک بار پھر خطے میں غلط اندازے لگا رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ محدود حملوں سے ایران کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں امریکہ نے فوجی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران پر اثر ڈالنے کی کوشش کی، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ حکمت عملی بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
تھائی ماہر کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرتا اور اسے واپس جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دیے گئے اشارے خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتے ہیں، جہاں کسی بھی غلط حساب کتاب کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ